1 دسمبر 2020 - 20:16
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ تئیسویں قسط

یہودی عمائد اور دفاع اسرائیل تحریک کے راہنماؤں نے 11 اکتوبر 2017 کو مرکز کا معائنہ کیا اور مرکز کے مخالفین کو تجویز دی کہ مرکز کے بارے میں کچھ کہنے میں جلدبازی سے کام نہ لیں بلکہ تحقیق کریں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لندن میں ایک امام بارگاہ جو یہودیوں کی حمایت سے معرض وجود میں آئی" (4)

مزید تفصیل

فائیوپیلرز یوکے کی رپورٹ Zionists backed golders green mosque
صہیونیوں کی یقین دہانی: فکرمند نہ ہو یہودیو! گولڈرگرین مرکز، مسجد بھی نہیں ہے اسرائیل کے خلاف بھی نہیں ہے.
یہودیوں کے موقف کے ضمن میں جو کچھ سامنے آیا وہ یوں تھا: " یہودی جب جان گئے کہ یہ لوگ سنی بھی نہیں ہیں، ایران کے حامی شیعہ بھی نہیں ہیں، اسرائیل کے ساتھ کوئی اختلاف بھی نہیں رکھتے تو انھوں نے گولڈرگرین کے علاقے میں نئے اسلامی مرکز کی مخالفت ہی نہیں چھوڑ دی بلکہ اس کی حمایت بھی کردی۔
یہودی عمائد اور دفاع اسرائیل تحریک کے راہنماؤں نے 11 اکتوبر 2017 کو مرکز کا معائنہ کیا اور مرکز کے مخالفین کو تجویز دی کہ مرکز کے بارے میں کچھ کہنے میں جلدبازی سے کام نہ لیں بلکہ تحقیق کریں۔
واضح رہے کہ اسی دن 100 یہودیوں نے گیوین بوبی (Gavin Boby) کی موجودگی میں ایک احتجاجی نشست میں شرکت کی۔ گیوین کو "مساجد توڑنے والا" کا لقب دیا گیا ہے اور اس نے پورے برطانیہ میں مساجد کے خلاف 47 تحریکیں چلائی ہیں۔ اس شخص نے مسلمانوں کے خلاف بہت تند و تیز جملے کہے، لوگوں کے جذبات ابھارے اور در حقیقت لوگوں کی توجہ اس مرکز کی طرف مبذول کرادی، تاکہ اس کی مؤثر وکالت کے لئے راہ ہموار ہوسکے اور تمام کے تمام یہودی اس کی حمایت کردیں اور اس کا ساتھ دیں۔
اور پھر گویا ایک ہم آہنگ منصوبے کے تحت عمائدین میدان میں آئے اور تفصیلات میں جاکر افراد کے نام تک لئے اور واضح کیا کہ سب کچھ قابو میں ہے۔ جوزف کوہن بھی ان عمائد میں شامل ہے اور جہاں بھی فلسطینیوں کی حمایت ہوتی ہے یہ اس کی مخالفت میں کھڑا ہوجاتا ہے، فلسطینیوں کے حامیوں کی مخالفت کرتا ہے لیکن اسے یہاں اسلامی انٹرفیتھ کے فعال کارکن مصطفی فیلڈ کے ہمراہ شیرازی مرکز میں دکھایا گیا۔
فائیوپیلرز یوکے لکھتا ہے: "عمارت 2017 کے آغاز میں باون لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈ میں خریدی گئی ہے۔ یہ اس کے بعد شیعہ کمیونٹی کا مرکز ہوگا، اس کا نام حسینینہ رسول اعظم ہوگا، اس مرکز کا تعلق آیت اللہ صادق شیرازی سے ہے، شیرازی ایران کے اعلی حکام اور مراجع کے خلاف ہیں۔ کیونکہ ایران میں رہنے والے مراجع اسرائیل کے دشمن اور فلسطینیوں کے حامی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، گولڈرزگرین کی یہودی کمیونٹی اس موضوع پر بٹ گئی۔ بعض نے سڑک پر بھیڑ اور ٹریفک کے حوالے سے تشویش ظاہر کی اور بعض نے اسلام ہراسانہ انداز اپنایا۔ پٹشینز پر دستخط ہوئے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن دوسرے میدان میں آئے جو خالص صہیونی اور سیاسی یہودی تھے، اسرائیل کے حامی، جنہوں نے اسلام فوبیا کی مذمت کی ـ وہی جس کی بنیاد انھوں نے خود رکھی ہے اسلام کا فروغ رکھنے کے لئے اور اسلام فوبیا کی غرض سے ہی داعش اور النصرہ یا پھر پاکستان، افغانستان، عراق، شام، لبنان اور یمن میں سرگرم خونخوار تکفیری دہشت گردوں کو پال رہے ہیں تاکہ ان کے کرتوتوں سے علاقے میں عدم استحکام بھی جاری رہے اور دنیا بھر میں لوگ ان کے کرتوت دیکھ  کر اسلام سے نفرت بھی کریں ـ انھوں نے یہاں اس عمل کی بڑی مذمت کی اور کہا کہ جناب یہ تہذیب و تمدن کے خلاف ہے، اور ہم اس روش کی مذمت کرتے ہیں!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲